Aag Ka Darya by Qurat ul Ain Haider

آگ کا دریا
ABOUT NOVEL
"River of Fire" is a creative work by Qarat-ul-Ain Haider. It is a historical and very long novel. And it is a milestone in the history of Urdu novel writing. "River of Fire" appeared in 1959. In which two and a half thousand years of Indian civilization has been made the subject. In this novel, it is actually shown that "time" is a "river of fire" that engulfs everything and destroys it. Time is a force that nothing can match…
Time is cruel and ruthless. It robs man of his childhood and boyhood, his youth and all his subtle desires and dreams. And man can do nothing but regret. It is as if man, in spite of all his intelligence, knowledge and abilities, is like a helpless and humble straw. Man is helpless in the face of historical oppression and the evil of human nature.
If the "River of Fire" is divided into four parts or periods, the first period presents ancient Indian history or Vedic civilization. The second part deals with the Muslim era. The third section deals with the British rule and the fourth section deals with the period up to independence. 

ABOUT THE AUTHOR
Qaratul Ain Haider is one of the leading female Urdu novelists. He is a veteran and the most popular creator. Whose main field is Urdu novel and fiction writing. The secret of Qaratul Ain Haider's popularity and fame lies in the fact that she uses the technique of "consciousness" in her novels in which she seems to be quite successful. She entered Urdu literature with a healthy and excellent literary tradition and high creative power is the special essence of her literary personality.

ناول کے بارے میں۔۔۔!!!

"آگ کا دریا " قرۃ ُالعین حیدر کا معرکتہ الآراء تخلیقی کارنامہ ہے۔ جو کافی طویل ناول ہے۔ اور اردو ناول نگاری کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ "آگ کا دریا" 1959ء میں منظر عام پر آیا ۔ جس میں ڈھائی ہزار سالہ ہندوستانی تہذیب کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس ناول میں دراصل یہ دکھایا گیا ہے کہ "وقت " ایک "آگ کا دریا " جو ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے کر نیست ونابود کر دیتا ہے۔ وقت ہی ایک ایسی طاقت ہے جس کا مقابلہ کوئی بھی چیز نہیں کر سکتی ۔۔۔

وقت انتہائی ظالم اور بے رحم ہوتا ہے۔ جو انسان سے اس کا بچپن اور لڑکپن ، حن و شباب اور انسان کی تمام لطیف ترین تمناؤں اور سپنوں کو بری طرح چھین لیتا ہے۔ اور انسان سوائے کف افسوس مَلنے کے اور کچھ نہیں کر پاتا۔ گویا انسان اپنی تمام تر ذہانت ، علمیت اور صلاحیتوں کے ہوتے ہوئے بھی ایک بے بس اور حقیر تنکے کی طرح ہے۔ جو تاریخی جبر اور انسانی سرشت کی شر پسندی کے آگے بے بس و مجبور ہے۔


"آگ کا دریا" کو اگر چارحصوں یا ادوارمیں تقسیم کیا جائے تو پہلا دور قدیم ہندوستانی تاریخ یا ویدک تہذیب کو پیش کرتا ہے۔ دوسرے حصے میں مسلمانوں کے دور کو پیش کیا گیا ہے۔ تیسرے میں انگریزوں کی عملداری کا ذکر ہے اور چوتھے حصے میں آزادی تک کے دور کو موضوع بنایا گیا ہے۔

مصنف کے بارےمیں۔۔۔!!!

            اردو کی اہم خواتین ناول نگاروں میں قرۃُالعین حیدر کا نام سرفہرست ہے۔ وہ کہنہ مشق اور مقبول ترین تخلیق کار ہیں۔ جن کا اصل میدان اردو ناول اور افسانہ نگاری ہے۔ قرۃُالعین حیدر کی مقبولیت اور شہرت کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ انہوں نے اپنے ناولوں میں "شعورکی رو" کی تکنیک کو برتاہے جس میں وہ کافی کامیاب دکھائی دیتی ہیں۔ وہ ایک صحت مند اور شاندار ادبی روایا ت کو لے کر اردو ادب میں داخل ہوئیں اور اعلیٰ تخلیقی قوت ان کی ادبی شخصیت کا خاص جوہر ہے۔۔
Detail:-
Book Name
Aag Ka Darya
Author Name
Qurat ul Ain Haider
Year
1959
Pages
983
Size
53.1 MB

مجھے امید ہے آپ کو یہ تاریخی ناول پسند آئے گا۔
مکمل ناول پڑھنے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے ڈاؤن بٹن پر کلک کریں۔
For download complete book in PDF please click on download button below.
آگ کا دریا
 Aag Ka Darya by Qurat ul Ain Haider

Post a Comment

2 Comments

Please do not enter any spam link in the comment box.