Time and Feelings وقت اور احساسات

وقت اور احساسات

کوئی بھی جذبہ مستقل نہیں ہوتا۔ ہم کتنے ہی دعوے کرتے ہیں یہ انسان نہیں ملے گا تو جی نہیں سکیں گے۔مر جائیں گےیا جینا مشکل ہوجائے گا۔یا فلاں چیز فلاں شخص بہت اہم ہے۔ کوئی بھی چیز اتنی اہم نہیں ہوتی جتنی کہ ہم لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔وقت کے ساتھ اہم ، غیرا ہم میں بدل جاتے ہیں۔ہر خوشی کا اختتام غم پر ہوتا ہے۔ اور خوشی کا آغازبھی  غم سے ہی ہوتا  ہے۔ جس طرح ہر دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن آتا ہے۔ اسی طرح وقت کے ساتھ چیزیں بدل رہی ہیں ۔ ایک وقت میں جو چیز ہمارے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔ کسی دوسرے وقت میں وہ ہمارے لیے غیر اہم ہوچکی ہوتی ہے۔ یا ہماری ترجیحات تبدیل ہو چکی ہوتی ہیں۔۔

انسان وقت کے ساتھ چیزوں سے بیزار ہوتا چلا جاتا ہے۔خوبصورت اور اہم  نظر آنے والی چیزیں وقت کے ساتھ انسان کیلئے اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں ۔وقت انسان کی خواہشات کو بدل دیتا ہے۔ انسان کے جذبات اور احساسات بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ لذت کی انتہا بیزاری ہے۔۔۔!!!

"ہر کا م کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اور ہر وقت کیلئے ایک کام ہوتا ہے۔ بے وقت کی نماز بھی نماز نہیں کہلائی جاسکتی ۔ حج کے ایام ہیں ۔صیام کا مہینہ ہے۔ نیند کا وقت ہے۔ تلاش رزق کا وقت ہے۔ تعلیم کا زمانہ ہے۔ علم کا دَور الگ ہے۔ خواہش کے زمانے اور ہیں۔ فتوحات کے ایام اور ہوتے ہیں۔ شکست کی گھڑی اور ہے۔ عمل کا میدان اور ہے ۔ جزا اور سزا کا وقت الگ مقرر کر رکھا ہے۔ نہ خوشی مستقل ہے۔نہ غم ہمیشہ رہ سکتا ہے۔ ہر کا م اپنے مقررہ وقت پر حسین وموزوں لگتا ہے،ورنہ بے زیب و بدنما ۔۔۔!!" (واصف علی واصف)

یقین مانیئے میں نے اپنی تمام چیزوں ، لوگوں کے بارے سوچا جو کبھی میرے لیے بہت اہم ہوا کرتے تھے۔لیکن غور کرنے پر معلوم ہواکہ وہ   آج میرے لئے اتنے اہم  نہیں ہیں۔بلکہ کچھ تو بالکل ہی غیراہم ہوچکے ہیں۔  یہ ایک فطری عمل ہےکہ وقت کے ساتھ چیزوں کی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔ وہ لوگ جن کے بغیر جینے کا تصورکرنا بھی محال ہوتا ہے۔ ان کے جانے کے بعد زندگی اسی طرح اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ہم اپنی زندگی میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ وہ لوگ ہمیں یاد بھی نہیں رہتے ہیں۔۔ 

درحقیقت آپ کی اپنی ذات ہی ہوتی ہے جو بہت اہم ہوتی ہے۔جسے ہم ہولناک حد تک نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ اور خود کو اہمیت نہیں دیتے ۔آپ کی رگوں میں دوڑنے والا خون ، سینےمیں موجود دل اور سانسوں میں موجود آکسیجن جب تک یہ سب ہے۔تب تک سب ہے۔جونہی سانسوں کا تانا بانا ٹوٹے گا۔سب ختم ہوجائے گا۔انسان کی فطرت میں موافقت ہے۔زندگیاں تو چلتی رہتی ہیں اور چلتی رہیں گی۔یہ تم ہو جو معنی رکھتے ہوخود کیلئے اور کچھ نہیں۔آپ کااصل ساتھی اور آپ کا صحیح تشخص آپ کے اندر کا انسان ہے۔۔۔!!!!

اللہ تعالیٰ ہم سب کیلئے آسانیاں فرمائے۔۔۔
آمین۔۔۔۔۔!!!

Post a Comment

6 Comments

  1. Replies
    1. It's good...but i my views thing's importance change with the passage of time but person and relationship values don't change with time because time only fill the gap but importance r still there

      Delete
  2. Good, it is reality.....👍👍

    ReplyDelete

Please do not enter any spam link in the comment box.